پی پی ایم اے کا 17فیصد عائد ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ

کراچی(نمائندہ خصوصی) پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسو سی ایشن نے نئے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پچھلی حکومت کی طرف سے ادویات کی تیاری کےلئے استعمال ہونے والے خام مال پر عائد 17فیصد عائد جنرل سیلز ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے ۔ پی پی ایم اے کے ترجمان ڈاکڑ قیصر وحید کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ٹیکس کی وجہ سے کئی جان بچانے والی ادویات کی فراہی میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ ڈاکڑ قیصر وحید نے کہاکہ ہم پچھلے چار ماہ سے اس عائد کردہ ٹیکس پر شدید احتجاج بھی کر رہے ہیں مگر حکومت نے ہماری بات کو اہمیت نہ دی اور ٹیکس واپس نہ لیا ۔

انہوں نے کہاکہ اس ٹیکس کی وجہ سے ملک میں جان بچانے والی ادویات لوگوں تک سستی قیمتوں میں پہچانہ مشکل ہو چکا ہے اور کئی کمپنیوں کو ادویات کی مینو فیکچررنگ میں بھی مشکلات پیش ا ٓرہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پی پی ایم اے نے ہمیشہ حکومت کا ساتھ دیا اور مشکل وقت میں اس بات کو یقینی بنایا کہ لوگوں سے ادویات بروقت اور سستی فراہم کی جا سکیں ۔ انہوں نے کہاکہ ادویات کی صنعت نے کرونا جیسی ہنگامی حالات میں بھی بھر پور خدمات انجام دیتے ہوئے یقینی بنایا کہ ادویات کی فراہمی بلاتعطل جاری رکھی جائے ۔ ڈاکڑ قیصر وحید نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حکومت ہماری خدمات کو سراہاتے ہوئے اس ناجائز ٹیکس کو واپس لے لے گی ۔ انہوں نے کہاکہ اس ٹیکس کو واپس لیا جائے یا پھر خریداری کی بنیاد پر اسے ریفنڈ کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ پی پی ایم اے کے نمائندے نئے وزیر اعظم سے ملاقات کے خواہاں ہیں تاکہ ان سے ملکر انہیں صنعت کو درپیش مسائل سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا جا سکے ۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button