حکومت کی اتحادی ’’ایم کیو ایم‘‘ کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ

ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں بات کرنے کا موقع نہ دیے جانے پر اجلاس کا واک آؤٹ کیا

اسلام آباد (فیصل اظفر علوی) حکومت کی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں بولنے کا موقع نہ دیے جانے پر اجلاس کا واک آؤٹ کردیا۔

حکومت کی اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں بات کرنے کا موقع نہ دیے جانے پر اجلاس کا واک آؤٹ کردیا ہے۔

اسی اجلاس میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی رکن ڈاکٹر فہمیدہ مرزا بھی اسپیکر کی جانب سے مائیک نہ دیے جانے پر اجلاس کا واک آؤٹ کرکے چلی گئیں۔

جی ڈی اے رہنما و ایم این اے فہمیدہ مرزا نے بار بار کورم کی نشاندہی کیلیے بٹن دبایا لیکن اسپیکر نے مائیک نہ دیا جس کے بعد وہ مائیک نہ ملنے پر اجلاس سے واک آؤٹ کرکے ایوان سے باہر چلی گئیں۔

اس سے قبل ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا ایوان ہے وزیر خارجہ پالیسی بیان دے اور اپوزیشن لیڈر ہی نہ ہو، آپ شاید الیکشن کمیشن کا فیصلہ چاہتے تھے وہ بھی آگیا، اب تو آپ اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ کرلیں، اس وقت قومی اسمبلی میں جی ڈی اے ہی درست معنوں میں اپوزیشن ہے، اس کے علاوہ جتنی اپوزیشن ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے خود جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی بات کی ہے، ہم بھی یہی کہتے ہیں آپ سندھ میں 90 فیصد سیٹیں اسی طاقت سے لیتے ہیں، میثاق جمہوریت شخصیات کے لیے نہیں ہونے چاہئیں لیکن اس میثاق جمہوریت آپ کو سندھ میں کیوں نظر نہیں آتا، بلاول نےآئندہ الیکشن خونی ہونے کی بات ٹھیک کی ہے، میثاق ہونا چاہئے مگر 13 جماعتیں تو آپ کے ساتھ ہیں تو بنائیں، بائیڈن سے دوستی ہے تو پھر اسے کشمیر کیلیے کام آنا چاہیے۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button