حکومت مخالف تحریک: عمران خان نے خیبر پختونخواہ کو مرکز بنا لیا

پارلیمنٹ ڈائری

اسلام آباد( فیصل اظفر علوی سے) خیبرپختونخوا ایک مرتبہ پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، وزیر اعظم میاں شہباز شریف حلف اٹھانے کے فوری بعد دو مرتبہ اس صوبے کو اپنی آمد سے رونق بخش چکے ہیں جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی حکومت کی تبدیلی کے بعد بھی کے پی کو اپنی حکومت مخالف تحریک کے لئے فوکس کیا ہوا ہے۔ ابھی گزشتہ روز بھی انہوں نے اسلام آباد تک لانگ مارچ اور دھرنے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کا خصوصی اجلاس منعقد کیا جس میں وفاقی حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کی تحریک کے حوالے سے اہم فیصلے بھی کئے گئے۔ دوسری جانب وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے دیا میر بھاشا ڈیم کی سائٹ کا دورہ کیا اور وہاں جاری ترقیاتی کاموں کا بھی جائزہ لیا اس موقع پر خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر ہم دیامر بھاشا ڈیم کا منصوبہ مقررہ تاریخ 2029 سے قبل 2026 تک مکمل کرلیتے ہیں یہ ایک کرشمہ ہوگا۔ اس قوم کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی کیا ہوسکتی ہے کہ 125، 130 ملین ایکڑ فٹ پانی یہاں سے گزرتا ہے اور اس میں سے ہم مشکل سے صرف 25 سے 30 ملین ایکڑ فٹ پانی بچا پارہے ہیں۔ اگر ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے ہم اس پانی کو بچا لیں تو یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہوگی اور اس کے لیے یہ ڈیم اہم کردار ادا کرے گا، یہ ترقی نہ صرف پاکستان کو مضبوط کرے گی بلکہ اس سے تربیلا ڈیم کی عمر میں بھی 30 سے 35 سال کا اضافہ ہوگا۔اس موقع پر انہوں نے بابو سر ٹرمینل بنانے کا اعلان کرتے ہوئے اس کی ملنے والے فوائد سے بھی آگاہ کیا۔

دو روز بعد ہی شہباز شریف نے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کا دورہ کیا، جہاں جرگہ سے خطاب کے دوران دیرپا امن کی بحالی کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلے میں جلد ہی اسلام آباد میں علاقے کے عمائدین کا ایک گرینڈ جرگہ بلائیں گے تاکہ موجودہ صورتحال کا کوئی حل نکالا جاسکے۔اگر چہ سینئر سول و ملٹری حکام اور علاقے کے عمائدین نے وزیر اعظم کا استقبال کیا لیکن اس موقع پر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا کوئی وزیر مشیر استقبال کرنے والوں میں شامل نہیں تھا۔ ایک خوش آئند امر یہ ہے کہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیر اعظم کو علاقے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ بھی دی۔

وفاق میں تبدیلی کے بعد نئے سیاسی منظر نامے میں خیبرپختونخوا کی اہمیت دوبالا ہو گئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ صوبہ ایک بار پھر نئی سیاسی محاذ آرائی میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے اور تحریک انصاف کے کپتان حکومت مخالف تحریک کے لئے کے پی کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے جس کی ابتدا وہ اپنے پہلے احتجاجی جلسے سے کر چکے ہیں جبکہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ محمود خان کے دفتر میں پارلیمانی پارٹی سے ملاقات میں جس طرح کھلے ماحول میں گفتگو کی اس سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگاکہ سابق وزیر اعظم حکومت کے خلاف اپنی تمام تر مہم اسی صوبے میں بیٹھ کر چلائیں گے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے منتخب اراکین سے کہا کہ میں چند روز میں اسلام آباد تک لانگ مارچ اور دھرنے کی تاریخ کا اعلان کروں گا، اس حوالے سے آپ ساتھیوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ امپورٹڈ حکومت کے خاتمے کے لئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں کارکنوں کو وفاقی دارالحکومت تک پہنچائیں اور پاکستان کو ایک آزاد، خود مختار مملکت بنانے کے لئے میرا ساتھ دیں۔ گزشتہ ہفتے کی سیاسی ڈائری میں ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ وفاق میں متحدہ اپوزیشن کی حکومت آنے کے بعد خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کا مستقبل کیا ہے اس حوالے سے مزید سوالات اٹھ رہے ہیں اور ہر سطح پر اس امر کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کے پی کے ساتھ وفاقی حکومت کا عدم تعاون اہم صوبائی امور کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے لیکن دوسری جانب ہماری صوبائی حکومت نے وزیر اعظم کی پہلی بار خیبر آمد پر ان کے استقبال کے لئے اپنا نمائندہ بھی نہ بھجوا کر جو تاثر دیا اس سے جواباًبہتری کی امید کم ہی کی جا سکتی ہے۔ عمران خان کی سی ایم سیکرٹریٹ میں پارلیمانی پارٹی سے ملاقات اور کئی گھنٹے طویل سیاسی بحث و تمحیص نے بھی کئی سوالات چھوڑے ہیں،ایسی صورت حال میں معاملات کچھ بہتر دکھائی نہیں دے رہے۔ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی امن و امان کی صورت حال تشویشناک حدوں کو چھو رہی ہے جس کے لا محالہ اثرات سرحد پار خیبر کے بعض علاقوں میں دیکھے جا رہے ہیں اس کے فوری تدارک کی ضرورت ہے کیونکہ شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، پشاور، باڑا اور اکوڑہ خٹک سمیت افغانستان سے ملنے والے سرحدی علاقوں میں جو امن دشمن کارروائیاں جاری ہیں اس پر ہر ایک کو تشویش ہے۔

صوبائی حکومت آج کل نئے بجٹ کی تیاری میں بھی مصروف ہے اور مختلف مدات میں آمدنی و اخراجات کے تخمینے زیر غور ہیں۔ ایک اطلاع یہ ملی ہے کہ آئندہ ترقیاتی بجٹ میں 20 ارب روپے اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزارت خزانہ نے اس حوالے سے مختلف محکموں سے تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ امید ہے کہ وفاقی بجٹ پیش ہونے کے فوری بعد صوبے کا بجٹ بھی پیش کر دیا جائے گا۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button