"درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ” تحریر:-چوہدری اصغر علی جاوید

ملک میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجہ میں جہاں ہزاروں انسانی جانیں،لاکھوں جانور لقمہ اجل بن گئے وہاں لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے اور بے سروسامانی کی حالت سے دوچار ہوگئے ہیں سیلاب کے سدباب کے لئے حکومتی سطح پر قبل از وقت اقدامات نہ اٹھائے جانے اور بد انتظامی کے نتیجہ میں ملکی جس انسانی المیہ سے دوچار ہوا ہے اسکی تلافی میں ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں زرعی اجناس،پھلوں اور سبزیوں کی لاکھوں ایکڑ پر زیر کاشت فصلیں تباہ ہونے سے آئندہ آنے والے دنوں میں ملک میں غذائی قلت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے جانی و مالی نقصانات کا ازالہ اکیلی حکومت کے بس کی بات نہیں اسکے لئے ملک کے مخیر حضرات سماجی تنظیموں اور عام آدمی کی طرف سے ریلیف فنڈز اور امدادی اشیاء کی فراہمی یقینا قابل ستائش عمل ہے امدادی کاروائیوں اور متاثرین کی بحالی کے لئے حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی تنظیموں کی جانب سے انسانی ہمدردی کی قابل رشک مثالیں سامنے آرہی ہیں بورے والا جسے دی سٹی آف ایجوکیش کا درجہ حاصل ہے یہاں کے باشعور اور انسانی ہمدردی رکھنے والی تنظیموں کے علاوہ انفرادی طور پر مقامی اور اووسیز پاکستانیوں کی طرف سے غیر معمولی فنڈ ریزنگ کی جارہی ہے سول سوسائٹی نیٹ ورک بورے والا جسکی سماجی خدمات پہلے بھی قابل رشک رہی ہیں اس انسانی المیہ کے بعد سول سوسائٹی نیٹ ورک کی طرف سے کے پی کے سیلاب متاثرین جو بے گھر ہوچکے ہیں انکے لئے نئے گھروں کی تعمیر پر پہلے مرحلے میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اسکے علاوہ نوجوانوں کی سماجی تنظیم”ہیومنز آف بورے والا” کی طرف سے متاثرین سیلاب کے لئے یوگا کونسل بورے والا کلب,پنجاب گروپ آف کالجز،سٹار انسٹی ٹیوٹ،اوورسیز پاکستانیوں اور مخیر شخصیات کے تعاون سے 50 لاکھ سے زائد کی مالیت کا غذائی سامان و دیگر اشیاء ضروریہ فراہم کرچکے ہیں جبکہ متاثرین سیلاب کے لئے نئے گھروں کی تعمیر اور انکے روزگار کی بحالی کے لئے بھی”بورے والا فلڈریلیف فنڈ” قائم ہوچکا ہے اس سلسلہ میں گزشتہ روز سماجی تنظیم”ہیومنز آف بورے والا” کی طرف سے مقامی گیسٹ ہاوس سیرین ان میں سماجی تنظیموں،مخیرحضرات،کاروباری شخصیات اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی مشترکہ”ڈونرز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں سماجی تنظیم”ہیومنز آف بورے والا کے ممبر بورڈ آف گورنرزڈاکٹر سہیل عزیز، میاں خالد حسین اور بورے والا فلڈ ریلیف ٹیم کے ممبر و ایگزیکٹو ممبر جنت عزیز ٹرسٹ فیصل پاکستانی نے خطاب کرتے ہوئے اپنی تنظیم کی جانب سے ملک میں قدرتی آفات میں ہونے والی تباہ کاریوں کے دوران 2005سے لیکر اب تک کی جانے والی امدادی کاروائیوں اور مستقل بحالی کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر شرکاء کانفرنس کو بریفنگ دی جس میں تنظیم کےبورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان احمد صارم، میاں عثمان خالد،سنگا پور سےعلی عباس اور یوکے سے اوورسیز پاکستانی عبدالقادر نے ویڈیو پیغام کے ذریعے اب تک سیلاب زدگان کے لئے کی جانے والی فنڈ ریزنگ اور متاثرین کے لئے راشن سمیت دیگر اشیاء ضروریہ پر مشتمل 1000 سے زائد خاندانوں کے لئے ریلیف پیکیج کی تقسیم ہیومنز آف بورے والا کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اس ڈونر کانفرنس میں سول سوسائٹی نیٹ ورک کے پیٹرن انچیف شیخ شہزاد مبین،معروف سماجی شخصیت چیف ایگزیکٹو الکریم ڈویلپرز رانا طاہر کریم،ڈائریکٹر سردار ظہور احمد ڈوگر،شیخ محمد ایوب،وہاڑی چیمبر آف کامرس کے صدر شیخ نعیم پاشا،سابق صدر میاں خالد محمود،صدر مرکزی انجمن تاجران چاچا ملک محمد اسلم،صدر انجمن آڑھتیاں غلہ منڈی چوہدری احتشام داود،ڈائریکٹر پنجاب کالج مجید اکبر،آئل ملز ایسوسی ایشن کے چوہدری محمد زاہد،صدر پی ایم اے ڈاکٹر مقصود شیخ،پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے خواجہ منور،دین میڈیکل کمپلکس کے مینجر میاں حفیظ الرحمان،صدر پریس کلب چوہدری اصغر علی جاوید،ڈائریکٹر پروگرامز عبدلطیف غزنوی،ندیم انجم سندھو،ڈاکٹر حفیظ میاں،پی ٹی آئی کے محمدشہباز بھٹی،بورے والا فلڈ ریلیف ٹیم کے ارکان چوہدری اعجاز اسلم،محمد عمر سلیمی،محمد ابوبکر،مطاہر جمیل رامے،چوہدری محمد نوید،میاں محمد اشرف،صدر انجمن آڑھتیاں سبزی منڈی حاجی عاشق علی آرائیں،اسٹیٹ ڈویلپر محمد امجد ڈھڈی اور دیگر نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔
اس کانفرنس میں تمام شرکاء نے سیلاب زدگان کی مستقل بحالی کے حوالہ سے کئے جانے والے اقدامات کے لئے ہر ممکن ریلیف فنڈز اکٹھا کرنے کا اعادہ کیا انسانی ہمدردی کے اس عمل میں ہر شخص کو اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالنا چاہیئے بورے والا کی طرح اگر دیگر شہروں میں بھی ایسے ہی فلڈ ریلیف فنڈ قائم کرکے متاثرین کی بحالی کے کاموں میں حصہ لیا جائے تو ممکنہ حد تک انکی بحالی ہوسکتی ہے

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button